Newsverz

World ·

ہیروز اور شہداء کی توہین کے الزام میں چینی فنکار گاؤ ژین کو تین سال قید کی سزا

معروف چینی فنکار گاؤ ژین کو ماؤ زے تنگ کے مجسموں کے ذریعے چین کے 'ہیروز اور شہداء' کی توہین کرنے پر تین سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے، جس پر چینی قانون کے اطلاق کے حوالے سے بین الاقوامی تنقید شروع ہو گئی ہے۔

ذیل میں درج ذرائع سے AI کے ذریعے مرتب کیا گیا۔

China

سابق چینی رہنما ماؤ زے تنگ کے اشتعال انگیز مجسموں کے لیے پہچانے جانے والے نمایاں چینی فنکار گاؤ ژین کو چین کے 'ہیروز اور شہداء' کی توہین کا مجرم قرار دیے جانے کے بعد تین سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان کی اہلیہ اور انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق، یہ سزا گاؤ کے دو سال حتمی حراست میں گزارنے کے بعد سنائی گئی ہے۔ انہیں اصل میں اپنے خاندان کے ہمراہ چین کے دورے کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔ گاؤ کے خلاف قانونی کارروائی نے بین الاقوامی سطح پر مذمت کو ہوا دی ہے۔ اس ردعمل کا مرکز الزامات کا وقت ہے، کیونکہ استغاثہ کے مرکز میں موجود فن پارے چین کی جانب سے وہ قانون نافذ کرنے سے ایک دہائی سے زائد پہلے بنائے گئے تھے جس کے تحت ان پر مقدمہ چلایا گیا۔

Related articles

Comments

Loading comments...

ہیروز اور شہداء کی توہین کے الزام میں چینی فنکار گاؤ ژین کو تین سال قید کی سزا